سی ایس ایس نظام تبدیل کرکے کیڈرنان کیڈرتفریق ختم کرنے کی تجویز

6592
wrap up superior services - CSS Cader Non Cader

ڈاکٹرعشرت ٹاسک فورس کی سفارشات،بیورکریسی میں سی ایس ایس نظام تبدیل کرکے کیڈرنان کیڈرتفریق ختم کرنے کی تجویز

حکومت سول سروسز میں اصلاحات پر کام کر رہی ہے جن کا مقصد ملک سے ’’اعلیٰ ترین سروسز‘‘ کے نو آبادیاتی خیال کا خاتمہ کرنا ہے۔ کابینہ کے جائزے کیلئے یہ تجاویز ڈاکٹر عشرت حسین کی زیر قیادت ٹاسک فورس برائے سول سروسز نے تیار کی ہیں جن کا مقصد سینٹرل سپیریئر سروسز (سی ایس ایس) کا نظام ختم کرنا ہے۔ حکومت کی اصلاحات کیلئے تشکیل دی گئی کمیٹی کی جانب سے ڈونرز میٹنگ اسلام آباد میں پیش کی جانے والی پریزنٹیشن میں بتایا گیا کہ ’’سپیریئر سروسز‘‘ کے خیال کو تبدیل کرکے سرکاری ملازمین کے تمام کیڈرز اور نان کیڈرز کیلئے مساوی بنیادوں پر متعارف کرایا جائے گا۔ باخبر ذرائع کے مطابق، سی ایس ایس امتحانات کے موجودہ نظام کو اس انداز سے تبدیل کیا جائے گا کہ تمام کیڈرز اور سروسز کیلئے عمومی امتحان کی بجائے مہارت کی حامل (اسپیشلائزڈ) بیوروکریسی لائی جائے گی۔ ابتدائی طور پر چار گروپس (کلسٹر یا اسٹریم) متعارف کرائے جائیں گے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ ماہرانہ اہلیت رکھنے والے امیدوار مخصوص گروپ میں شمولیت اختیار کر سکیں۔ ٹاسک فورس کی جانب سے ان تجاویز کو حتمی شکل دے کر کابینہ کو غور کیلئے پیش کر دیا گیا ہے۔ ان میں سول سروسز میں شمولیت کیلئے نظرثانی شدہ طریقہ کار کی تجویز شامل ہے جس میں امیدوار تجزیاتی صلاحیت (اینالٹیکل ایبلٹی)، اپنے شعبے سے متعلق مخصوص معلومات اور امیدوار کی موزونیت کا امتحان لیا جائے گا۔ بھرتی کے مجوزہ نظام کے چار مراحل ہوں گے۔ پہلے مرحلے میں اسکریننگ ٹیسٹ ہوگا، گروپ کی بنیاد پر مہارت رکھنے والوں کی بھرتی دوسرے مرحلے میں ہوگی، تیسرے مرحلے میں ذہن پیمائی (سائیکو میٹرکس) کا جائزہ لیا جائے گا جبکہ چوتھے مرحلے میں تیسرے مرحلے تک کامیاب ہونے والے امیدواروں کا انٹرویو لیا جائے گا تاکہ حتمی انتخاب کیا جا سکے۔ کہا جاتا ہے کہ موجودہ حکومت کا سول سروسز میں اصلاحات کا ایجنڈا مندرجہ ذیل اصولوں پر مبنی ہے ۔۔ تمام سطحوں پر کھلی، شفاف اور میرٹ کی بنیاد پر بھرتی سب کیلئے، تمام سرکاری ملازمین کیلئے کارکردگی کی بنیاد پر کیریئر میں آگے بڑھنے کے مواقع، تمام ملازمین کیلئے کیریئر میں آگے بڑھنے کے مساوی مواقع، سپیریئر سروسز کے خیال کو سرکاری ملازمت کے تمام کیڈرز اور نان کیڈرز کیلئے ختم کرنا، تمام سرکاری ملازمین کیلئے گزر بسر اور مشاہرے کا اچھا پیکیج جس میں ریٹائرمنٹ پر معقول سہولتیں اور ، کسی بھی عہدے کی معیاد کیلئے حاصل تحفظ پر سختی سے عمل۔ ڈاکٹر عشرت کی زیر قیادت ٹاسک فورس کی تجویز پر کابینہ پہلے ہی اصلاحات کے 6؍ کیسز کی منظوری دے چکی ہے جن میں ۱) سرکاری ملازمین کو عہدے کی معیاد کی سیکورٹی ، جس کے تحت عہدے کی معیاد دو سال ہوگی جس میں تین سال تک توسیع کی جا سکتی ہے اور اس میں 6؍ ماہ پر مشتمل کارکردگی کے جائزے کا عرصہ بھی شامل ہوگا۔ ۲) وزراء اور سیکریٹریز پر مشتمل سلیکشن کمیٹی کے ذریعے وفاقی سیکریٹریز کی تقرری کا طریقہ کار۔ کمیٹی کے چیئرمین اسٹیبلشمنٹ کے مشیر ہوں گے۔ ۳) اہم سرکاری اداروں کے چیف ایگزیکٹو افسران کے انتخاب کا طریقہ کار۔ یہ تقرریاں کھلی اور شفاف طریقہ کار کے تحت ہوں گی، سلیکشن کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی جو اہم سرکاری اداروں کے سربراہ کے عہدے کیلئے نام تجویز کریں گی۔ سلیکشن کمیٹی متعلقہ وزیر، سیکریٹری اور متعلقہ شعبے کے ایک سے تین ماہرین پر مشتمل ہوگی۔ ۴) بین الوزارتی رابطہ کاری کیلئے فعال کی جانے والی سیکریٹریز کمیٹی تاکہ اہم پالیسی امور کابینہ کیلئے تجاویز پیش کرنے جیسے معاملات پر مختلف وزارتوں کے درمیان مسائل کو حل کیا جا سکے۔ ۵) وزیروں کیلئے ٹیکنیکل مشیروں کی بھرتی۔ تکنیکی معاملات پر فیصلہ سازی کیلئے 15؍ وزیروں کے پاس تکنیکی معلومات رکھنے والے مشیر ہوں گے۔ ۶) الیکٹرانک گورننس پر عملدرآمد کیلئے روڈ میپ جس کے تحت وفاقی وزارتوں کو لوکل ایریا نیٹ ورکنگ (LAN) کے ذریعے ایک دوسرے کے ساتھ جوڑ دیا جائے گا، تازہ ترین معلومات اور فعال ویب سائٹس بنائی جائیں گی، وفاقی حکومت کی رابطہ کاری کو مخصوص انٹرنیٹ ڈومین یعنی gov.pk پر منتقل کیا جائے گا، ایک سرے سے دوسرے سرے تک (End to End) محفوظ الیکٹرانک فائلنگ سسٹم بنایا جائے گا تاکہ کاغذ کے استعمال کو ختم کیا جا سکے اور ساتھ ہی ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کمیٹی (ڈی ٹی سی) تشکیل دی جائے گی تاکہ قومی انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (این آئی ٹی بی) کے اجلاس باقاعدگی کے ساتھ بلائے جا سکیں اور اسے مضبوط بنایا جا سکے۔

Plan out to wrap up ‘superior services’

The government is working on a civil service reform aimed at eliminating the colonial concept of “superior services” in the country.

The proposal, which has been prepared by Dr Ishrat Hussain-led Task Force on Civil Service Reforms for cabinet consideration, will do away with the Central Superior Services, commonly known as CSS, system.

In a presentation made at a donors meeting in Islamabad last week by the government’s reforms body, it was said the concept of “Superior Services” is being replaced by equality among all cadres and non-cadres of public servants.

According to informed sources, the present CSS exam system would be changed in a manner that instead of one general examination for all cadres and services, the concept of specialised bureaucracy would be introduced.

Initially, four streams or clusters would be introduced to ensure that the candidates with specialised qualification join the specialised streams.

The proposal finalised by the Task Force for cabinet’s consideration suggests revised induction process for the entry level for civil service to test analytical ability, domain specific knowledge and aptitude of candidates.

The proposed recruitment system will have four stages. Stage 1 would be the Screening Test; cluster based specialized recruitment will be done at Stage 2; Stage 3 to involve psychometric evaluation, and; in Stage 4 – interviews of the candidates who qualify Stages 1-3 will be done for final selection. It is said that the civil reforms’ agenda of the present government is based on the following principles:

Open, transparent, merit-based recruitment at all levels; performance–based career progression for all public sector employees; equality of opportunities for career advancement to all employees; replacement of the concept of Superior Services by equality among all cadres and non-cadres of public servants; grant of living wage and compensation package including decent retirement benefits to all civil servants, and; strict observance of security of tenure of office for a specified period of time.

On the recommendation of Dr Ishrat-led Task Force on Civil Service Reforms, the cabinet has already approved six reforms cases that include; 1) Security of tenure of civil servants. The tenure will be two years extendable to three years with six-month performance review period.

2) Appointment process for the postings of Federal Secretaries through Selection Committee comprising Ministers and Secretaries to be chaired by Adviser on Establishment. 3) Selection Process of CEOs for key public sector enterprises. These appointments will be made through open and transparent process by involving selection committees formed to propose a panel for the appointment of heads of PSEs. The Selection Committees toconsist of Minister in charge, Secretary, one to three experts with domain knowledge. 4) Secretaries Committee activated for inter ministerial coordination, resolving issues between different ministries, deliberating upon important policy matters and making recommendations to the Cabinet. 5) Appointment of Technical Advisors to the Ministers. Fifteen Ministers to have Technical Advisors for assistance in technical decision making. 6) Roadmap for implementation of E-governance by connecting all Federal Ministries through LAN (local area network), updated and responsive websites, shifting federal government communication on one domain (gov.pk), end-to-end secure E-filing system for paperless government, making the Digital Transformation Committee (DTC) effective by holding regular meetings and strengthening of the National Information Technology Board (NITB).

wrap up superior services - CSS Cader Non CaderSource: Daily Jang + Daily the News

Please Share your comments using Facebook ID
If there are any omissions or mistakes,wrong or incomplete, If you have any suggestions or corrections to make. Please let me know, Just drop comment or Contact Us

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here